نکاح حلالہ یا صرف حلالہ
نکاح حلالہ یا صرف "حلالہ"
یاسر ندیم الواجدی
بی جے پی حکومت کے انتخابی منشور میں یکساں سول کوڈ شامل رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں منوسمرتی کے قانون کو نافذ کرکے برہمن واد کو فروغ دینا ہے۔ یکساں سول کوڈ کو دستور ہند کے باقی رہتے ہوے متعارف کرانا آسان نہیں ہے، اس لیے بی جے پی نے نیا راستہ اختیار کیا ہے، جس کے مطابق مسلم خاتون کو مظلوم قرار دیا جائے اور آہستہ آہستہ وہ تمام عائلی قوانین عدالتی راستے سے ختم کردیے جائیں جو مسلم خاندان کی شناخت ہیں۔ طلاق ثلاثہ، تعدد ازواج اور میراث کے مسائل بار بار میڈیا میں اور پھر منظم طریقے سے عدالت لے جائے جارہے ہیں۔ ایک تازہ مسئلہ نکاح حلالہ کا ہے۔ ملک کے موقر اخبارات کے مطابق عدالت عالیہ نے حکومت سے "نکاح حلالہ" کے بارے میں اس کا موقف معلوم کیا ہے تاکہ عدالت کی پانچ رکنی بنچ اس پر سماعت کرسکے۔
تبھی سے سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہوگئی کہ حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بحث کو ختم کرنے کے لیے ہمیں حلالہ اور نکاح حلالہ کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ حلالہ کا ذکر قرآن مجید میں اس انداز سے آیا ہے کہ: اگر شوہر نے عورت کو تیسری طلاق دے دی، تو عورت اپنے سابقہ شوہر کے لیے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے"۔ امت کا سواد اعظم اس بات پر متفق ہے کہ دوسرا نکاح حلالہ کے مقصد سے نہ ہو، اسی لیے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر جو حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے کیا جارہا ہے لعنت فرمائی ہے۔ حلالہ کے مقصد سے نکاح کرنے کو ہی نکاح حلالہ کہا جاتا ہے، جب کہ اس شرط یا نیت کے بغیر اگر کوئی شخص اس عورت سے نکاح کرے اور پھر یہ نکاح بھی ختم ہوجائے تو پہلے شخص کے لیے جائز ہوگا کہ وہ اس عورت سے نکاح کرلے، اس کو حلالہ کہا جاتا ہے۔ لہذا نیت حلالہ کے ساتھ نکاح، نکاح حلالہ ہے اور بغیر نیت حلالہ کے نکاح سے صرف حلالہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس تعلق سے متردد ہوں انھیں حاکم کی اس روایت پر غور کرنا چاہیے کہ : "ایک شخص حضرت ابن عمر کے پاس آیا اور پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، اس کے ایک بھائی نے کسی سابقہ ایگریمنٹ کے بغیر، اس،عورت سے نکاح کرلیا محض اس نیت سے کہ وہ عورت کو اس کے سابقہ شوہر کے لیے حلال کردے گا تو کیا یہ درست ہے۔ ابن عمر نے ارشاد فرمایا کہ: ہرگز نہیں! نکاح تو صرف رغبت کے ساتھ ہوتا ہے، ہم ایسے نکاح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا ہی مانتے تھے"۔
یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، امام ابو یوسف کے نزدیک بھی ایسا نکاح باطل ہے جب کہ امام محمد کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ فقہاء کے درمیان یہ اختلاف حلالہ کے تعلق سے نہیں ہے بلکہ "نکاح حلالہ" کے تعلق سے ہے۔
ہمارے ملک کی فقہی اکیڈمیاں اس تعلق سے اگر غور کریں اور امام ابو یوسف کے قول پر فتوی دیں تو نکاح حلالہ کے جو چند واقعات ہوتے ہیں ان پر روک لگ سکتی ہے۔ غالبا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے بیان کے ذریعہ اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ نکاح حلالہ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ ملکی قانون اور عدالتیں لفظوں کی اسیر ہیں، سپریم کورٹ نے حکومت سے نکاح حلالہ کے بارے میں موقف معلوم کیا ہے، حلالہ کے بارے میں نہیں۔ اگر بورڈ کے ارباب حل وعقد مناسب سمجھیں تو کورٹ میں یہ ایفی ڈیوٹ بھی داخل کریں کہ نکاح حلالہ کا شریعت میں کوئی تصور نہیں ہے، بلکہ یہ چیز باعث لعنت ہے اور اسلامی قانون میں موجب تعزیر رہی ہے ، اس اقدام سے امید ہے کہ میڈیا کو جو بحث کا موضوع ملا ہوا ہے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
علاوہ ازیں کیا ہماری کوئی تنظیم ایسی نہیں ہے جو دفاع سے نکل کر اقدام کے بارے میں غور کرے، کیوں ابھی تک کسی نے نیوگا کے غیر دستوری اور صنفی مساوات وعدل کے خلاف ہونے پر عدالت عالیہ میں ایک عدد پی آئی ایل داخل نہیں کی ہے؟ کیوں ابھی تک عدالت عالیہ کو مانگلکتا (جس کے تحت عورت کو درخت یا کتے سے شادی کرنا پڑتی ہے) کے تعلق سے متوجہ نہیں کیا گیا ہے؟ ہمیں مصروف ہونے کے بجائے اب مصروف کرنے پر توجہ دینی چاہیے، تبھی برہمن واد کا غرور خاک میں مل سکتا ہے۔
یاسر ندیم الواجدی
بی جے پی حکومت کے انتخابی منشور میں یکساں سول کوڈ شامل رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں منوسمرتی کے قانون کو نافذ کرکے برہمن واد کو فروغ دینا ہے۔ یکساں سول کوڈ کو دستور ہند کے باقی رہتے ہوے متعارف کرانا آسان نہیں ہے، اس لیے بی جے پی نے نیا راستہ اختیار کیا ہے، جس کے مطابق مسلم خاتون کو مظلوم قرار دیا جائے اور آہستہ آہستہ وہ تمام عائلی قوانین عدالتی راستے سے ختم کردیے جائیں جو مسلم خاندان کی شناخت ہیں۔ طلاق ثلاثہ، تعدد ازواج اور میراث کے مسائل بار بار میڈیا میں اور پھر منظم طریقے سے عدالت لے جائے جارہے ہیں۔ ایک تازہ مسئلہ نکاح حلالہ کا ہے۔ ملک کے موقر اخبارات کے مطابق عدالت عالیہ نے حکومت سے "نکاح حلالہ" کے بارے میں اس کا موقف معلوم کیا ہے تاکہ عدالت کی پانچ رکنی بنچ اس پر سماعت کرسکے۔
تبھی سے سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہوگئی کہ حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بحث کو ختم کرنے کے لیے ہمیں حلالہ اور نکاح حلالہ کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ حلالہ کا ذکر قرآن مجید میں اس انداز سے آیا ہے کہ: اگر شوہر نے عورت کو تیسری طلاق دے دی، تو عورت اپنے سابقہ شوہر کے لیے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے"۔ امت کا سواد اعظم اس بات پر متفق ہے کہ دوسرا نکاح حلالہ کے مقصد سے نہ ہو، اسی لیے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر جو حلالہ کرتا ہے اور جس کے لیے کیا جارہا ہے لعنت فرمائی ہے۔ حلالہ کے مقصد سے نکاح کرنے کو ہی نکاح حلالہ کہا جاتا ہے، جب کہ اس شرط یا نیت کے بغیر اگر کوئی شخص اس عورت سے نکاح کرے اور پھر یہ نکاح بھی ختم ہوجائے تو پہلے شخص کے لیے جائز ہوگا کہ وہ اس عورت سے نکاح کرلے، اس کو حلالہ کہا جاتا ہے۔ لہذا نیت حلالہ کے ساتھ نکاح، نکاح حلالہ ہے اور بغیر نیت حلالہ کے نکاح سے صرف حلالہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس تعلق سے متردد ہوں انھیں حاکم کی اس روایت پر غور کرنا چاہیے کہ : "ایک شخص حضرت ابن عمر کے پاس آیا اور پوچھا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، اس کے ایک بھائی نے کسی سابقہ ایگریمنٹ کے بغیر، اس،عورت سے نکاح کرلیا محض اس نیت سے کہ وہ عورت کو اس کے سابقہ شوہر کے لیے حلال کردے گا تو کیا یہ درست ہے۔ ابن عمر نے ارشاد فرمایا کہ: ہرگز نہیں! نکاح تو صرف رغبت کے ساتھ ہوتا ہے، ہم ایسے نکاح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا ہی مانتے تھے"۔
یہی وجہ ہے کہ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، امام ابو یوسف کے نزدیک بھی ایسا نکاح باطل ہے جب کہ امام محمد کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ فقہاء کے درمیان یہ اختلاف حلالہ کے تعلق سے نہیں ہے بلکہ "نکاح حلالہ" کے تعلق سے ہے۔
ہمارے ملک کی فقہی اکیڈمیاں اس تعلق سے اگر غور کریں اور امام ابو یوسف کے قول پر فتوی دیں تو نکاح حلالہ کے جو چند واقعات ہوتے ہیں ان پر روک لگ سکتی ہے۔ غالبا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے اپنے بیان کے ذریعہ اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ نکاح حلالہ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں ہے۔
نیز یہ بھی واضح رہے کہ ملکی قانون اور عدالتیں لفظوں کی اسیر ہیں، سپریم کورٹ نے حکومت سے نکاح حلالہ کے بارے میں موقف معلوم کیا ہے، حلالہ کے بارے میں نہیں۔ اگر بورڈ کے ارباب حل وعقد مناسب سمجھیں تو کورٹ میں یہ ایفی ڈیوٹ بھی داخل کریں کہ نکاح حلالہ کا شریعت میں کوئی تصور نہیں ہے، بلکہ یہ چیز باعث لعنت ہے اور اسلامی قانون میں موجب تعزیر رہی ہے ، اس اقدام سے امید ہے کہ میڈیا کو جو بحث کا موضوع ملا ہوا ہے وہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔
علاوہ ازیں کیا ہماری کوئی تنظیم ایسی نہیں ہے جو دفاع سے نکل کر اقدام کے بارے میں غور کرے، کیوں ابھی تک کسی نے نیوگا کے غیر دستوری اور صنفی مساوات وعدل کے خلاف ہونے پر عدالت عالیہ میں ایک عدد پی آئی ایل داخل نہیں کی ہے؟ کیوں ابھی تک عدالت عالیہ کو مانگلکتا (جس کے تحت عورت کو درخت یا کتے سے شادی کرنا پڑتی ہے) کے تعلق سے متوجہ نہیں کیا گیا ہے؟ ہمیں مصروف ہونے کے بجائے اب مصروف کرنے پر توجہ دینی چاہیے، تبھی برہمن واد کا غرور خاک میں مل سکتا ہے۔
Comments
Post a Comment