خواتین کی ریلیاں

آج خواتین کے جلوس پر شرعی بحث چل رہی ہے ' بندے کے خیال مطابق موجودہ زمانے کے جمہوری ملکوں میں اپنی بات منوانے کا یہ ایک طریقہ ہے 'جس میں سر گنے جاتے ہیں ـ
  رہی قرانی آیت " قرن فی بیوتکن " تواس کے آگے " ولا تبرجّن تبرجّ الجاہلیۃ " بھی ہے ـ
وقتی وہنگامی ضرورت کے لئے عورت کے گھر سے باہر نکلنے پر قرن فی بیوتکن کا اطلاق نہیں ہوتا ' گھر میں آگ لگ جائے ' فسادہوجائے یا کوئی اور ایسی بات پیش آجائے جس میں گھر سے نکلنا ضروری ہوجائے تو اس میں عورت کو قرن فی بیوتکن کہہ کر روکا نہیں جاسکتا ـ
اس لئے اپنے حقوق کے حصول اور شریعت کے تحفظ کے لئے اگر عورتوں کو گھر سے باہر آنا پڑرہا ہے تومیرے خیال میں  یہ بھی اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے ـ بے شک اس سے تو اختلاف ہو سکتا ہے کہ طلاق بل اور شریعت میں مداخلت کے خلاف عورتوں کا گھر سے باہر آنا شرعی طور پر ضرورت سمجھا جائے گا یا نہیں جبکہ دشمنان اسلام میڈیا میں چند خریدی ہوئی عورتوں یش کرکےشریعت میں مداخلت کا بہانہ تلاش رہے ہیں ـ
   پوری آیت دیکھنے کے بعد ظاہر ہوجاتا ہے کہ قران مجید عورتوں کوہنگامی ضروریات کے لئے باہر نکلنے سے نہیں روک رہا ہے بلکہ " تبرُّج جاہلیہ " (جاہلیت کی طرح خود کونمایاں کرنا اور اترانا)سے روک رہاہے ـ میرے خیال سے اب تک کسی بھی ریلی میں " تبرّج " نہیں پایا گیا ہے ـ اور موجودہ ریلیاں وقتی وہنگامی ضرورت کے تحت ہی منعقد کی جارہی تھیں چونکہ پارلمنٹ کا اجلا س ختم ہورہا ہے اس لئے آج پرسنل لا بورڈ نے ان کے اختتام کا اعلان بھی کردیاہے ـ
    درج بالا تحریر احقر کے خیالات کی ترجمانی کرتی ہےتاہم اہل علم کے اختلاف کا بھی خیر مقدم ہے ـ
   واللہ اعلم بالصواب
       محمود دریابادی

Comments

Popular posts from this blog

وہ اشعار جن کا ایک مصرعہ ضرب المثل کی حد تک مشہور ہوا اور دوسرا وقت کی دھول میں کہیں کھو گیا۔